بین الاقوامی

بنگلہ دیش کے سابق وزیر رمیش چندر سین کی پولیس حراست میں موت، عبوری حکومت پر سوالات

عبوری حکومت پر سوالات کیوں اٹھ رہے ہیں؟

میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ مہینوں میں بنگلہ دیش کی جیلوں اور پولیس حراست میں عوامی لیگ سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں اور کارکنوں کی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال عبوری حکومت کے تحت سیاسی دباؤ اور مخالفین کے خلاف کارروائیوں کے الزامات کو تقویت دے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اگست 2024 سے عوامی لیگ اور اس سے وابستہ تنظیموں (جیسے چھاترا لیگ اور یوبو لیگ) کے متعدد کارکن اور رہنما جیل یا حراست کے دوران ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم حکام نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔


رمیش چندر سین کون تھے؟

رمیش چندر سین بنگلہ دیش کے سابق وزیرِ آبی وسائل رہ چکے ہیں اور وہ ٹھاکرگاؤں-1 حلقہ سے رکن پارلیمان بھی منتخب ہوئے تھے۔ رپورٹس کے مطابق انہیں 16 اگست 2024 کو گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں دیناج پور ڈسٹرکٹ جیل منتقل کر دیا گیا۔


موت کیسے ہوئی؟

بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق رمیش چندر سین علی الصبح بیمار ہو گئے، جس کے بعد انہیں جیل سے دیناج پور میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق انہیں صبح 9 بج کر 29 منٹ پر ڈاکٹروں نے مردہ قرار دے دیا۔

جیل حکام کے مطابق رمیش چندر سین کو مختلف مقدمات کا سامنا تھا جن میں ایک قتل کا مقدمہ بھی شامل بتایا جا رہا ہے۔ دیناج پور ڈسٹرکٹ جیل کے سپرنٹنڈنٹ فرہاد سرکار نے کہا کہ قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لاش اہل خانہ کے حوالے کر دی جائے گی۔


سیاسی ردعمل اور خدشات

رمیش چندر سین کی موت کے بعد عوامی لیگ کے حامیوں اور بعض سیاسی حلقوں نے واقعے کو مشکوک قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انتخابات سے قبل سیاسی رہنماؤں کی حراست میں اموات نے ملک میں انسانی حقوق اور سیاسی آزادیوں سے متعلق خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

(وقارِ ہند نیوز ڈیسک)

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button