بین الاقوامیعرب دنیا

بنگلہ دیش میں ہندو تاجر پر ہجوم کا حملہ، چاقو زنی اور آگ لگانے کا واقعہ

بنگلہ دیش میں اقلیتی ہندو برادری کے خلاف تشدد کے ایک اور افسوسناک واقعے میں ہندو تاجر کھوکن چندر کو ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا، چاقو مارا اور بعد ازاں آگ لگا دی۔ یہ واقعہ گزشتہ دو ہفتوں میں چوتھا حملہ بتایا جا رہا ہے، جس سے اقلیتی برادری میں شدید خوف اور بے چینی پھیل گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق چالیس سالہ کھوکن چندر نئے سال کی شب اپنی دوائیوں کی دکان بند کر کے گھر واپس جا رہے تھے۔ جب وہ کیوربھنگا بازار کے قریب تلوئی علاقے میں پہنچے تو تقریباً رات نو بجے کچھ شرپسند عناصر نے انہیں گھیر لیا اور بے رحمی سے مارپیٹ کی۔ بعد ازاں حملہ آوروں نے نوکیلے ہتھیاروں سے کئی وار کیے، جسم پر پٹرول ڈالا اور آگ لگا دی۔

شدید زخمی حالت میں کھوکن چندر نے جان بچانے کے لیے قریبی تالاب میں چھلانگ لگا دی۔ مقامی افراد نے انہیں بچا کر شریعت پور صدر اسپتال پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت تشویشناک ہے۔ تاحال حملے کی وجہ اور ملزمان کی شناخت واضح نہیں ہو سکی۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بنگلہ دیش میں ایک کے بعد ایک اقلیتوں پر حملے سامنے آ رہے ہیں۔ حال ہی میں بجندر بسواس نامی ہندو شہری کو فیکٹری میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ اس سے قبل امرت منڈل کو ہجوم نے قتل کیا اور دیپو چندر داس کے قتل پر عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی۔

ان واقعات کے بعد ہندو برادری میں عدم تحفظ کا احساس مزید گہرا ہو گیا ہے، جبکہ بھارت نے بھی اقلیتوں کے خلاف مسلسل دشمنی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button