بین الاقوامیعرب دنیا

ہانگ کانگ میں خوفناک آگ، 128 افراد جاں بحق

ہانگ کانگ میں تاریخ کی خوفناک آگ کے بعد پورا شہر تین روزہ سوگ میں ڈوب گیا ہے۔ اس واقعے میں کم از کم 128 افراد جان سے گئے، جبکہ کئی اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہزاروں شہری وانگ فُک کورٹ کی جلی ہوئی عمارت کے قریب جمع ہوکر پھول چڑھا رہے ہیں اور جاں بحق افراد کو خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

بڑے بوڑھے، بچے اور خاندان ہاتھوں میں سفید اور پیلے پھول لیے کھڑے دکھائی دیے۔ ایک 69 سالہ خاتون، جو چار دہائیوں سے اسی علاقے کی رہائشی ہیں، اپنے پڑوسیوں کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئیں۔

شہر بھر میں 18 تعزیتی مراکز قائم کیے گئے ہیں جہاں لوگ خاموشی سے دعائیں کر رہے ہیں۔
صبح 8 بجے چیف ایگزیکٹو جان لی نے سرکاری حکام کے ساتھ تین منٹ کی خاموشی اختیار کی، جبکہ ہانگ کانگ اور چین کے پرچم سرنگوں رہے۔

ہلاکتوں کی تلاش جاری

پولیس کے مطابق 128 ہلاکتوں کی تصدیق ہوچکی ہے، جبکہ 44 لاشیں شناخت کی منتظر ہیں۔
تقریباً 150 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ 40 سے زائد زخمی اسپتالوں میں زیرِعلاج ہیں، جن میں سے 19 کی حالت تشویش ناک ہے۔

انسدادِ بدعنوانی محکمے نے آگ سے متعلق تحقیقات میں آٹھ افراد گرفتار کر لیے ہیں، جبکہ تین مزید افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

آگ کیسے لگی؟

ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ نیچے کی منزلوں پر حفاظتی جالی سے شروع ہوئی، پھر جلدی بھڑکنے والی فوم شیٹس اور بانس کے اسکریپولڈنگ نے اسے مزید پھیلا دیا۔
فائر چیف اینڈی یونگ کے مطابق آٹھوں عمارتوں کے الارم خراب تھے — جس پر کارروائی کی جائے گی۔

یہ آگ 1948 کے بعد ہانگ کانگ کا سب سے بڑا سانحہ قرار دی جا رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button