ہانگ کانگ کے فلک بوس ٹاورز میں ہولناک آگ اموات 94 تک جا پہنچیں
ہانگ کانگ کے اونچے رہائشی ٹاورز میں لگنے والی خوفناک آگ نے تباہی مچا دی، جس میں اموات کی تعداد بڑھ کر 94 تک پہنچ گئی ہے۔ آگ بجھانے والے عملے نے دوسرے دن بھی آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری رکھیں، جبکہ عمارتیں مکمل طور پر سیاہ راکھ میں تبدیل ہو چکی ہیں۔
یہ واقعہ وانگ فوک کورٹ نامی رہائشی کمپلیکس میں پیش آیا، جہاں ہزاروں افراد رہائش پذیر ہیں۔ ریسکیو اہلکار ٹارچوں کی مدد سے کمروں کی تلاشی لے رہے ہیں، جبکہ کئی فلیٹوں سے دھواں ابھی بھی نکل رہا ہے۔
فائر سروس کے نائب ڈائریکٹر ڈیریک آرمسٹرانگ چین نے بتایا کہ آگ بظاہر بانس کے جالوں اور بیرونی تعمیراتی جالیوں سے لگی، جو شدید ہوا کی وجہ سے لمحوں میں سات عمارتوں تک پھیل گئی۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ ملبہ گرنے، اندھیرے اور شدید حرارت نے عملے کی رسائی انتہائی مشکل بنا دی۔
حکام کے مطابق اب بھی متعدد افراد لاپتہ ہیں۔ ہانگ کانگ کے سربراہ جان لی نے بتایا کہ 279 افراد سے رابطہ منقطع ہے۔
پولیس نے تعمیراتی کمپنی کے تین ذمہ دار افراد کو غیر ارادی قتل کے شبہے میں گرفتار کرلیا ہے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارتوں کی بیرونی دیواروں پر استعمال ہونے والا کچھ مواد آگ سے مزاحمت کے معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔
یہ ہانگ کانگ کی تاریخ کی مہلک ترین آگ قرار دی جا رہی ہے۔



