خلاء سے زمین ایک نظر میں، انسانی جھگڑے بے معنی لگتے ہیں سنیتا ولیمز
معروف خلانورد سنیتا ولیمز نے کہا ہے کہ خلائی سفر انسان کی سوچ کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے اور جب زمین کو خلا سے ایک سیارے کے طور پر دیکھا جائے تو انسانوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑے نہایت بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ وہ امریکی مرکز میں منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کر رہی تھیں، جہاں انہوں نے اپنی زندگی اور خلائی تجربات پر کھل کر گفتگو کی۔
سنیتا ولیمز نے کہا کہ خلا میں جانے کے بعد سب سے پہلے انسان اپنا گھر تلاش کرتا ہے۔ چونکہ ان کے والد کا تعلق ہندوستان اور والدہ کا تعلق سلووینیا سے ہے، اس لیے وہ ان خطوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی تھیں، مگر کچھ ہی وقت میں یہ احساس غالب آ جاتا ہے کہ پوری زمین ہی ہمارا گھر ہے۔
انہوں نے زمین کو ایک زندہ سیارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلا سے موسموں کی تبدیلی، سمندروں کے رنگ، برفانی علاقے اور فطرت کی حرکات واضح طور پر دکھائی دیتی ہیں، جو انسان کو اتحاد اور ہم آہنگی کا درس دیتی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلا سے زمین کو دیکھنے کے بعد یہ احساس ہوتا ہے کہ ہم سب ایک ہیں اور ہمیں باہمی تعاون کے ساتھ رہنا چاہیے۔ ان کے مطابق، “جب زمین کو اس زاویے سے دیکھا جائے تو یہ سمجھ نہیں آتا کہ آخر لوگ کیوں لڑتے ہیں۔”
خوف کے سوال پر سنیتا ولیمز نے مسکراتے ہوئے کہا کہ وہ اب بھی کئی چیزوں سے ڈرتی ہیں، خاص طور پر جنگلی جانوروں سے، اور انسان کو کائنات اور زمین میں اپنی حیثیت پہچان کر دیگر جانداروں کا احترام کرنا چاہیے۔
سنیتا ولیمز، جو ستائیس سالہ شاندار کیریئر کے بعد سبکدوش ہوئیں، نوجوانوں کے لیے آج بھی حوصلہ، علم اور انسانیت کی عظیم مثال ہیں۔



