آٹو ڈرائیوروں کی ہڑتال کے باعث حیدرآباد میں مسافروں کو مشکلات
حیدرآباد میں منگل کے روز آٹو ڈرائیوروں کی ہڑتال کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں افراتفری کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ انفارمل لیبر اینڈ ورکرز فیڈریشن سے وابستہ آٹو ڈرائیوروں نے اپنی مانگوں کے حق میں دھرنا اور ہڑتال کی، جس کے دوران مسافروں اور یونین اراکین کے درمیان جھڑپیں دیکھنے میں آئیں۔
یونین کی جانب سے مطالبہ کیا گیا کہ ضلع میں رجسٹرڈ آٹو رکشاؤں پر پابندی عائد کی جائے، آٹو کیب خدمات کو روکا جائے اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ بارہ ہزار روپے مالی امداد فوری طور پر جاری کی جائے۔ یہ امداد مہالکشمی مفت بس سفر اسکیم کے تحت خواتین کے لیے متعارف کروائی گئی تھی، جس کے بعد آٹو ڈرائیوروں نے آمدنی میں کمی کی شکایت کی ہے۔
صبح کے وقت آٹو یونین کے اراکین مختلف سڑکوں پر موجود رہے اور چلتے ہوئے آٹو رکشاؤں کو روک کر مسافروں کو اتارنے لگے، جس سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مقامات پر مسافروں نے احتجاج کیا جس کے نتیجے میں تلخ کلامی اور جھڑپیں ہوئیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ہڑتال کی وجہ سے عوامی زندگی مفلوج ہو گئی، جبکہ مسافروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹو ڈرائیوروں اور عوام دونوں کے مفاد میں جلد کوئی حل نکالا جائے۔ پولیس حکام کے مطابق حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے اور امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی فورس تعینات کی گئی ہے۔



