نمپلی فرنیچر شوروم آتش زدگی، ۲۰ گھنٹوں بعد پانچ لاشیں برآمد
حیدرآباد کے نمپلی علاقے میں واقع ایک چار منزلہ فرنیچر شوروم میں لگنے والی ہولناک آگ کے بعد اتوار کی صبح ریسکیو آپریشن مکمل ہوا، جس کے دوران پانچ افراد کی لاشیں برآمد کی گئیں۔ حکام کے مطابق آگ ہفتہ کی دوپہر بھڑکی تھی اور شدید دھوئیں کے باعث امدادی کارروائیاں متاثر رہیں۔
ریسکیو ٹیموں نے اتوار کی صبح جے سی بی کی مدد سے تہہ خانے میں سوراخ کر کے دھواں خارج کیا، جس کے بعد اندر داخل ہونا ممکن ہوا۔ پہلے مرحلے میں تین لاشیں برآمد کی گئیں، جبکہ باقی دو لاشیں بعد میں نکالی گئیں۔ پولیس نے لاشوں کو عثمانیہ اسپتال منتقل کر دیا ہے جہاں پوسٹ مارٹم کیا جا رہا ہے۔
آگ بچّا کرسٹل فرنیچر اسٹور میں لگی جو دیکھتے ہی دیکھتے چاروں منزلوں تک پھیل گئی۔ بتایا گیا ہے کہ جمعہ کی رات فرنیچر کی ایک بڑی کھیپ تہہ خانوں میں رکھی گئی تھی۔ شوروم میں تقریباً ۲۲ ملازمین کام کرتے تھے۔ واچ مین یدیا اور لکشمی اپنے دو بچوں کے ساتھ تہہ خانے میں رہائش پذیر تھے۔
پولیس، فائر بریگیڈ، این ڈی آر ایف اور حیدرآباد ڈیزاسٹر رسپانس ایجنسی نے مشترکہ طور پر ریسکیو آپریشن انجام دیا۔ ریاستی وزیر پونم پربھاکر نے واقعے پر گہرے رنج کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کے لیے مدد کا اعلان کیا اور فائر سیفٹی قوانین کی خلاف ورزی پر شوروم مالک کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرنے کی ہدایت دی۔



