تعلیمٹیکنالوجیعلاقائی خبریںقومی

بھارت میں آبادی کی گنتی کا آغاز، فلاحی و سیاسی نظام میں تبدیلی متوقع

بھارت نے دنیا کی سب سے بڑی آبادی کی گنتی کا آغاز کر دیا ہے، جس میں ایک ارب چالیس کروڑ سے زائد افراد کو شمار کیا جائے گا۔ یہ عمل وبا کے باعث تاخیر کے بعد شروع ہوا ہے اور اس سے ملک میں فلاحی منصوبوں اور سیاسی نمائندگی پر گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔

گزشتہ مردم شماری دو ہزار گیارہ میں ہوئی تھی، جس میں آبادی ایک ارب اکیس کروڑ ریکارڈ کی گئی تھی، جبکہ اب بھارت دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔ نئی مردم شماری دو مراحل میں مکمل کی جائے گی۔

پہلے مرحلے میں گھروں، سہولیات اور رہائشی حالات سے متعلق معلومات جمع کی جائیں گی، جبکہ دوسرے مرحلے میں سماجی و معاشی تفصیلات، بشمول مذہب اور ذات پات کا ریکارڈ رکھا جائے گا۔

حکومت نے اس عمل کے لیے تیس لاکھ سے زائد سرکاری اہلکار تعینات کیے ہیں۔ اس بار مردم شماری میں ڈیجیٹل نظام بھی شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت شہری موبائل ایپ کے ذریعے اپنی معلومات فراہم کر سکیں گے۔

خاص طور پر ذات پات کی گنتی کو انتہائی اہم اور حساس قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے معاشرتی ڈھانچے اور وسائل کی تقسیم پر اثر پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ مکمل ذات پات کا ریکارڈ آخری بار انیس سو اکتیس میں مرتب کیا گیا تھا۔

ماہرین کے مطابق یہ مردم شماری سیاسی نقشہ تبدیل کر سکتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد پر پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلیوں کی نشستوں میں اضافہ ممکن ہے۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button