یوکرین جنگ پر دباؤ مسترد، بھارت کا پولینڈ کو سخت پیغام
بھارت نے یوکرین جنگ کے تناظر میں روس کے ساتھ تجارتی تعلقات پر منتخب اور غیر منصفانہ دباؤ ڈالنے پر پولینڈ کے سامنے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے واضح انداز میں کہا کہ اس طرح کے محصولات اور دیگر دباؤ کی حکمتِ عملیاں بھارت کی آزاد خارجہ پالیسی کو متاثر نہیں کر سکتیں۔ ساتھ ہی انہوں نے پولینڈ کو پاکستان کے حوالے سے بھی محتاط رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ سرحد پار دہشت گردی کے معاملات میں کسی بھی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ حمایت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔
یہ باتیں نئی دہلی میں پولینڈ کے نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ کے ساتھ ملاقات کے دوران سامنے آئیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، علاقائی صورتحال اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں ممالک کے لیے باہمی نقطۂ نظر کا تبادلہ نہایت ضروری ہو چکا ہے۔
یوکرین تنازع پر گفتگو کے دوران ایس جے شنکر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ بھارت کو چُن کر نشانہ بنانا نہ صرف غیر منصفانہ بلکہ غیر ضروری بھی ہے۔ بھارت کا مؤقف ہے کہ اس جنگ کا حل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، نہ کہ دباؤ ڈال کر۔
انہوں نے دہشت گردی کے مسئلے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ پولینڈ کو صفر برداشت کی پالیسی اپنانی چاہیے اور ایسے عناصر یا ڈھانچوں کی مدد نہیں کرنی چاہیے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کریں۔ یہ بیان واضح طور پر پاکستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کی جانب اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پولینڈ کے وزیرِ خارجہ نے بھی منتخب تجارتی پابندیوں کو عالمی تجارت کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔ ملاقات کے اختتام پر دونوں ممالک نے باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔



