بھارتی سائنسدانوں کا بڑا کارنامہ زہریلے رنگوں کا 99 فیصد خاتمہ ممکن
بھارت کے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف کیمیکل ٹیکنالوجی کے سائنسدانوں نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے ایسی نینو فائبر جھلیاں تیار کر لی ہیں جو ٹیکسٹائل صنعت کے فضلے میں شامل زہریلے رنگوں کا 99 فیصد تک خاتمہ کر سکتی ہیں۔
ٹیکسٹائل صنعت میں استعمال ہونے والے رنگ، خاص طور پر کرسٹل وائلٹ جیسے کیمیائی مادے، اگر بغیر صفائی کے پانی میں شامل ہو جائیں تو یہ زیرِ زمین پانی اور آبی حیات کے لیے شدید خطرہ بن جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رنگ انسانی صحت کے لیے بھی مضر ہیں۔ موجودہ صفائی کے طریقے نہ صرف مہنگے بلکہ کم مؤثر بھی ہیں۔
ادارے کے چیف سائنسدان سندرگوپال سری دھر کی سربراہی میں تیار کی گئی اس جھلی کو خاص ٹیکنالوجی کے ذریعے بنایا گیا ہے، جس میں جدید نینو مواد شامل کیے گئے ہیں۔ یہ جھلی آلودہ پانی میں موجود رنگوں کے ذرات کو مؤثر انداز میں جذب کر لیتی ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ نئی جھلی کم لاگت، قابلِ توسیع اور صنعتی پیمانے پر استعمال کے لیے موزوں ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے صنعتیں صاف شدہ پانی کو دوبارہ استعمال بھی کر سکیں گی، جس سے پانی کی بچت ممکن ہو گی۔



