بین الاقوامی

عمان میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات، مزید بات چیت پر اتفاق

مسقط: کئی ماہ سے جاری کشیدگی، دھمکیوں اور فوجی تناؤ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان عمان میں بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے۔ یہ مذاکرات خلیجی ملک عمان کے دارالحکومت مسقط میں جمعے کے روز ہوئے، جہاں دونوں فریقین نے براہِ راست ملاقات کے بجائے عمانی حکام کے ذریعے پیغام رسانی کے طریقہ کار کو اختیار کیا۔

عمانی وزیر خارجہ بدر البصیدی نے دونوں وفود کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ یہ طریقہ ماضی میں بھی ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں استعمال ہو چکا ہے۔

ذرائع کے مطابق مذاکرات کو اس لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ دونوں جانب سے مزید بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ سفارتی حلقے اسے فی الحال ایک “مثبت مگر محتاط آغاز” قرار دے رہے ہیں۔

مذاکرات میں کون شامل تھا؟

ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے مذاکرات میں شرکت کی، جبکہ امریکہ کی نمائندگی خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف نے کی۔ عمانی حکومت کی جانب سے جاری تصاویر میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر کی موجودگی بھی دیکھی گئی، جسے مذاکرات کی حساسیت اور علاقائی سکیورٹی سے جوڑا جا رہا ہے۔

مذاکرات سے قبل ماحول کشیدہ رہا

مذاکرات سے قبل دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی جنگ جاری رہی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سخت موقف اپناتے ہوئے خبردار کیا تھا کہ اگر کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ دیگر آپشنز پر بھی غور کر سکتا ہے۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی امریکہ پر اعتماد نہ کرنے کے مؤقف کو دہرایا۔ ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے مذاکرات سے قبل کہا کہ ایران “مکمل احتیاط اور کھلی آنکھوں کے ساتھ” سفارت کاری میں داخل ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button