بین الاقوامیعرب دنیا

امریکہ نواز فتنہ ناکام، ایران میں حالات معمول پر، اسکول دوبارہ کھلنے کو تیار

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ سازش کو ایک بار پھر ناکام بنا دیا گیا ہے اور فتنہ مکمل طور پر بجھا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے بیرونی دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور استحکام کا کامیابی سے دفاع کیا۔

ایک مذہبی موقع پر خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای نے الزام عائد کیا کہ واشنگٹن اور تل ابیب نے ایران میں بدامنی پھیلانے کی منصوبہ بندی کی، جس کا مقصد ایران کو کمزور کرنا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا، لیکن ملک کے اندر اور باہر بدامنی کے ذمہ داروں کو سزا دینے سے بھی گریز نہیں کرے گا۔

انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو جرائم کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ فسادات کے دوران قتل و غارت اور تباہی میں ان کا کردار رہا۔ ان کے مطابق امریکی قیادت نے کھلے عام اشتعال انگیزی کی اور مظاہرین کی حوصلہ افزائی کی۔

حکام کے مطابق ملک بھر میں ہونے والے مظاہرے، جو ابتدا میں معاشی مسائل پر شروع ہوئے تھے، بعد میں پرتشدد رخ اختیار کر گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ پرامن احتجاج کو شرپسند عناصر نے ہائی جیک کیا۔ سیکیورٹی اداروں نے تقریباً تین ہزار افراد کو حراست میں لیا ہے۔

صورتحال میں بہتری کے بعد موبائل پیغامات کی سروس بحال کر دی گئی ہے، جبکہ اسکول ایک ہفتے کی بندش کے بعد دوبارہ کھولنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسی دوران لبنان کی حزب اللہ نے ایران کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اور امریکہ پر عالمی بالادستی کی کوششوں کا الزام لگایا۔

ایران کی وزارت خارجہ نے جی سیون ممالک کے بیانات کو اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button