علاقائی خبریںقومی

غلطی سے ہو گیا لکھنؤ میں بیٹے نے باپ کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کر دیے

لکھنؤ میں ایک دل دہلا دینے والے قتل نے شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ 21 سالہ نوجوان نے اپنے والد کے قتل اور لاش کے ٹکڑے کرنے کا اعتراف کرتے ہوئے عدالت لے جاتے وقت کہا کہ ’’غلطی سے ہو گیا‘‘۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ 20 فروری کی صبح پیش آیا جب مبینہ طور پر والد کی جانب سے طبی داخلہ امتحان کی تیاری پر دباؤ ڈالنے پر جھگڑا ہوا۔ الزام ہے کہ نوجوان نے اپنے 50 سالہ والد کو گھر میں موجود لائسنس یافتہ رائفل سے گولی مار دی۔

حکام کا کہنا ہے کہ قتل کے بعد ملزم نے شواہد مٹانے کے لیے لاش کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ کر مختلف مقامات پر پھینک دیے، جبکہ دھڑ کو گھر کے اندر ایک پلاسٹک کے ڈرم میں چھپا دیا۔ بعد ازاں اس نے گمشدگی کی جھوٹی رپورٹ درج کروا کر پولیس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

مسلسل تفتیش کے دوران ملزم ٹوٹ گیا اور جرم کا اعتراف کر لیا۔ پولیس نے آلۂ قتل، کارتوس اور دیگر شواہد برآمد کر کے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ فرانزک ٹیم نے موقع سے نمونے جمع کیے ہیں جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔

یہ واقعہ والدین اور بچوں کے درمیان بڑھتے دباؤ اور ذہنی تناؤ پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button