بین الاقوامیعرب دنیا

خامنہ‌ای کی خفیہ منتقلی امریکی بحری دباؤ پر تہران میں ہلچل

رپورٹس کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ‌ای کو ممکنہ امریکی فوجی حملے کے خدشے کے پیشِ نظر تہران میں ایک مضبوط زیرِ زمین بنکر میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکی بحری بیڑا ایرانی پانیوں کے قریب تعینات کیا جا رہا ہے، جس سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اعلیٰ فوجی اور انٹیلی جنس حکام نے خطرات کا جائزہ لینے کے بعد قیادت کے تحفظ کے لیے یہ قدم اٹھایا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ زیرِ زمین پناہ گاہ انتہائی محفوظ ہے اور سرنگوں کے جال کے ذریعے شہر کے مختلف حصوں سے منسلک ہے، تاکہ شدید بحران میں قیادت کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

خامنہ‌ای کی عوامی منظر سے غیر موجودگی کے دوران ان کے تیسرے صاحبزادے مسعود خامنہ‌ای نے مبینہ طور پر دفترِ سپریم لیڈر کے روزمرہ امور سنبھال لیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وہ حکومتی اداروں اور قیادت کے درمیان اہم رابطہ بنے ہوئے ہیں تاکہ حکمرانی کا تسلسل برقرار رہے۔

حالیہ دنوں میں دونوں ممالک کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ پہلے مہنگائی اور قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کے تناظر میں سخت بیانات سامنے آئے، تاہم اب علاقائی عسکری تعیناتی کے باعث صورتحال دوبارہ حساس ہو گئی ہے۔ ایران کی قیادت نے واضح کیا ہے کہ سپریم لیڈر پر کسی بھی حملے کو ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق ایسا اقدام جہاد کے اعلان کا سبب بھی بن سکتا ہے، جس سے خطے میں غیر معمولی نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button