بین الاقوامیعرب دنیا

خامنہ ای کا واضح مؤقف امریکی حکومت قابلِ اعتماد تعاون کے قابل نہیں

خامنہ ای کا واضح اعلان – امریکہ سے تعاون کی افواہیں محض جھوٹ قرار

ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایک تقریب سے خطاب میں امریکہ اور سابق امریکی حکومت کے بارے میں نہایت سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایسی حکومت سے رابطہ یا تعاون کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ایران کی جانب سے امریکہ کو کوئی پیغام بھیجے جانے کی خبریں ’’بالکل بے بنیاد‘‘ ہیں۔

یہ خطاب بسیج فورس کی سرکاری تقریب کے موقع پر کیا گیا، جہاں خامنہ ای نے جون میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری رہنے والی 12 روزہ جنگ کا بھی حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’امریکہ اور اسرائیل اپنے کوئی بھی مقاصد حاصل نہ کر سکے‘‘۔

جون میں اسرائیل کی جانب سے ایران پر غیر معمولی فضائی حملے کیے گئے تھے، جس میں امریکی شمولیت بھی دیکھی گئی۔ ان حملوں کے نتیجے میں ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا، جس کے بعد جوہری مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

خامنہ ای نے اس موقع پر ایرانی عوام کی اتفاق و یکجہتی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’’اختلاف رکھنے والے لوگ بھی ملک کے ساتھ کھڑے رہے‘‘۔ ان کے مطابق یہ اتحاد ہمیشہ قائم اور محفوظ رہنا چاہیے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حملوں کا مقصد ایران کو کمزور کرنا اور ملک میں بدامنی پھیلانا تھا، مگر یہ کوششیں ناکام رہیں۔ دوسری جانب سابق امریکی حکام ایران کے جوہری پروگرام کی تباہی کے دعوے کرتے رہے ہیں، مگر ایران نے ان دعووں کو ’’خواب‘‘ قرار دے کر مسترد کیا ہے۔

امریکی دفاعی ادارے کے مطابق ان حملوں سے ایران کے پروگرام میں صرف ایک سے دو سال کی تاخیر ہوئی ہے، جس سے امریکی بیانات میں متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button