لوگوں کے دل بدل گئے زوہران ممدانی کا نیویارک کے لیے نئے دور کا عزم
ہندوستانی نژاد اور جنوبی ایشیائی پس منظر رکھنے والے زوہران ممدانی نے نیویارک شہر کے ایک سو بارہویں میئر کی حیثیت سے حلف اٹھا لیا۔ وہ اس عظیم شہر کی قیادت سنبھالنے والے پہلے جنوبی ایشیائی اور مسلم میئر بن گئے ہیں، جسے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اپنی پہلی تقریر میں انہوں نے اپنے جنوبی ایشیائی ورثے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے اردو کے ایک جملے کا حوالہ دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ایک پاکستانی خاتون ثمینہ نے ان سے کہا تھا کہ اس تحریک نے لوگوں کے دلوں میں نرمی پیدا کر دی ہے۔ ان کے الفاظ کے مطابق: لوگوں کے دل بدل گئے ہیں۔
پینتیس سالہ زوہران ممدانی نے شمولیاتی طرزِ حکومت، مہنگائی میں کمی، تحفظ اور عوامی نمائندگی کو اپنی ترجیحات قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ ہر نیویارک کے شہری کے میئر ہوں گے، چاہے نظریات مختلف ہی کیوں نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ وہ شہریوں کے ساتھ خوشی اور غم میں برابر کے شریک رہیں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ان کی حکومت محنت کش طبقے کے مفادات کو مقدم رکھے گی اور اس نظام کو بدلے گی جس میں آزادی صرف مالی استطاعت رکھنے والوں تک محدود رہی ہے۔ ان کے مطابق اب سٹی ہال عوامی امنگوں کی حقیقی ترجمانی کرے گا اور کارپوریٹ لالچ کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوگا۔
انہوں نے مذہبی اور ثقافتی تنوع پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ شہر مساجد، گرجا گھروں، عبادت خانوں، گردواروں اور مندروں کے ماننے والوں کا مشترکہ گھر ہے، اور سب کو برابر کا مقام حاصل ہوگا۔



