بین الاقوامیعرب دنیا

میڈورو امریکی تحویل میں، نیویارک جیل منتقل، عالمی ردِعمل تیز

وینزویلا کے صدر نکولس میڈورو کو ایک غیر معمولی کارروائی کے بعد امریکی تحویل میں لے کر نیویارک منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے جاری کی گئی ابتدائی تصاویر میں میڈورو کو ہتھکڑیوں میں مسلح اہلکاروں کے درمیان دیکھا گیا، جہاں انہیں امریکی منشیات نافذ کرنے والے ادارے کے دفتر لے جایا گیا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی آپریشن ایبسولوٹ ریزولو کے تحت انجام دی گئی، جس کی منصوبہ بندی کئی ماہ سے جاری تھی اور چند منٹوں میں مکمل کر لی گئی۔ کارروائی سے قبل کراکس اور اطراف میں فضائی حملے کیے گئے، جن میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ میڈورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ عارضی طور پر وینزویلا کا انتظام سنبھالے گا، جب تک کسی محفوظ سیاسی منتقلی کا بندوبست نہ ہو جائے۔ انہوں نے ملک کے تیل کے ذخائر کے استعمال کا بھی عندیہ دیا۔ دوسری جانب امریکی عدالتوں میں میڈورو پر منشیات دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔

ادھر اپوزیشن رہنما ماریا کورینا ماچادو نے آزادی کے آغاز کا اعلان کیا، تاہم ٹرمپ نے ان کی قیادت کے دعوے کو مسترد کر دیا۔ وینزویلا کی سپریم کورٹ نے ریاستی تسلسل اور قومی دفاع پر غور کا اعلان کیا ہے۔

اس کارروائی پر اقوامِ متحدہ، روس اور چین سمیت کئی ممالک نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک میں احتجاجی مظاہرے بھی سامنے آئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی قانون اور آئینی اصولوں کے حوالے سے سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button