ٹیکنالوجیعلاقائی خبریںقومی

مہنگی گیس کا متبادل، استعمال شدہ تیل سے چلنے والا چولہا متعارف

گیس سلنڈر کی قلت اور بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان اڈیشہ کے ایک مقامی کاریگر نے ایک منفرد حل پیش کیا ہے، جہاں استعمال شدہ انجن آئل سے چلنے والا سستا چولہا تیار کیا گیا ہے۔ یہ ایجاد عام گھریلو صارفین اور چھوٹے کاروباروں کے لیے امید کی کرن بن رہی ہے۔

اڈیشہ کے ضلع کھوردھا کے ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والے کاریگر نے یہ کم لاگت متبادل اس وقت تیار کیا جب انہیں خود گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے دستیاب وسائل اور سادہ لوہے کے ڈھانچے سے ایک ایسا نظام بنایا جو مسلسل اور مضبوط شعلہ فراہم کرتا ہے۔

اس چولہے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ روزمرہ استعمال کے لیے نہایت آسان ہے اور صرف ۱۰ سے ۱۵ روپے فی لیٹر خرچ پر کئی دنوں تک کھانا پکانے میں مدد دیتا ہے۔ ایک عام خاندان اس کے ذریعے کم خرچ میں اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے۔

یہ ایجاد نہ صرف سستی ہے بلکہ ماحول دوست پہلو بھی رکھتی ہے، کیونکہ اس میں ضائع ہونے والے تیل کو دوبارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مقامی افراد اس چولہے میں دلچسپی لے رہے ہیں اور اس کی مانگ بھی بڑھ رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے ایندھن کے استعمال سے ماحولیاتی آلودگی اور حفاظتی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں، اس لیے اس کے وسیع استعمال سے پہلے مکمل جانچ ضروری ہے۔

یہ کوشش اس بات کی مثال ہے کہ کس طرح محدود وسائل کے باوجود مقامی سطح پر جدید حل تلاش کیے جا سکتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایندھن کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button