ایران کے سربراہ شدید زخمی، حکومتی فیصلوں سے مکمل دوری کی اطلاعات
ایران کی موجودہ صورتحال میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں نئی قیادت کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایران کے نامزد سربراہ شدید زخمی ہونے کے بعد اس وقت بے ہوشی کی حالت میں زیرِ علاج ہیں اور کسی بھی قسم کے حکومتی فیصلوں میں حصہ نہیں لے پا رہے۔
ذرائع کے مطابق یہ چوٹیں اسی فضائی حملے میں آئیں جس میں ان کے والد اور سابق سربراہ ہلاک ہوئے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ انہیں ایران کے مقدس شہر میں واقع ایک نجی اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس وقت وہ ملکی معاملات چلانے کے قابل نہیں ہیں، جس کے باعث ایران کی قیادت کے حوالے سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ خاص طور پر ان کی عوامی سطح پر عدم موجودگی نے افواہوں کو مزید تقویت دی ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ وہ بدستور قیادت سنبھالے ہوئے ہیں اور ملک کے اہم فیصلوں میں کردار ادا کر رہے ہیں، حالانکہ ان کے زخمی ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔
چند بیانات اور ویڈیوز بھی جاری کیے گئے، جن میں انہیں جنگی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے دکھایا گیا، تاہم ماہرین ان مناظر کی صداقت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت انتہائی حساس ہو چکا ہے اور عالمی سطح پر اس پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔


