بین الاقوامیعرب دنیا

مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے ممکنہ اگلے سپریم لیڈر قرار

ایران میں حالیہ جنگی صورتحال کے بعد ملک کی آئندہ قیادت کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای کو ممکنہ طور پر اگلا سپریم لیڈر قرار دیا جا رہا ہے۔

1969 میں مشہد میں پیدا ہونے والے مجتبیٰ خامنہ ای ایرانی انقلاب سے قبل کے سیاسی ماحول میں پروان چڑھے۔ ان کے والد شاہ محمد رضا پہلوی کے خلاف سرگرم تھے۔ انقلاب کے بعد خاندان تہران منتقل ہو گیا، جہاں سے ان کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہوتا گیا۔

مجتبیٰ خامنہ ای نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ حاصل نہیں کیا، تاہم وہ طویل عرصے سے طاقت کے ایوانوں میں بااثر سمجھے جاتے ہیں۔ انہیں اکثر اپنے والد کے قریبی مشیر، نگران اور رابطہ کار کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ بعض مبصرین انہیں "پردے کے پیچھے طاقت” بھی قرار دیتے ہیں۔

حالیہ اسرائیلی فضائی حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای اور مجتبیٰ کی اہلیہ زہرا حداد عادل کی ہلاکت کے بعد ان کا نام مزید نمایاں ہو گیا ہے۔ سخت گیر حلقے انہیں جنگ میں شہداء کے خاندان کا نمائندہ تصور کر رہے ہیں، جس سے ان کی پوزیشن مزید مضبوط ہو سکتی ہے۔

ایران میں سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگان کرتی ہے، جو 88 اراکین پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے۔ نیا رہنما ایرانی فوج، پاسداران انقلاب اور ملک کے حساس جوہری پروگرام پر مکمل اختیار رکھتا ہے۔

اگر مجتبیٰ خامنہ ای اس منصب پر فائز ہوتے ہیں تو وہ ایک ایسے وقت میں قیادت سنبھالیں گے جب ایران کو اندرونی دباؤ اور بیرونی خطرات دونوں کا سامنا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button