نہ آزاد نہ منصفانہ نیوزی لینڈ میں بھارت سے آزاد تجارتی معاہدے پر اختلاف
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے بھارت۔نیوزی لینڈ آزاد تجارتی معاہدے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے نہ آزاد، نہ منصفانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ نیوزی لینڈ کے لیے نقصان دہ ہے کیونکہ اس میں امیگریشن اور سرمایہ کاری پر بڑی رعایتیں دی گئی ہیں، جبکہ ملک کے اہم برآمدی شعبوں خصوصاً ڈیری کو خاطر خواہ فائدہ نہیں ملا۔
ونسٹن پیٹرز کے مطابق ان کی جماعت نے اس معاہدے کی افسوسناک طور پر مخالفت کی ہے اور خبردار کیا کہ یہ دیہی آبادی اور کسانوں کے مفاد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ اپنی منڈی بھارتی مصنوعات کے لیے تقریباً مکمل طور پر کھول رہا ہے، مگر بھارت نے نیوزی لینڈ کی ڈیری مصنوعات پر عائد بھاری محصولات کم نہیں کیے۔
یہ ردعمل ایسے وقت آیا ہے جب دونوں ممالک نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ معاہدہ آئندہ پانچ برسوں میں دو طرفہ تجارت کو دوگنا کر سکتا ہے۔ نیوزی لینڈ حکومت کے مطابق اس معاہدے کے تحت بیشتر برآمدات پر ڈیوٹی میں کمی یا خاتمہ ہوگا، جبکہ بھارت کو نیوزی لینڈ کی منڈی تک مفت رسائی ملے گی۔ اس کے علاوہ نیوزی لینڈ نے بھارت میں طویل مدت میں بھاری سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے۔
نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم نے معاہدے کو اہم معاشی کامیابی قرار دیا، جبکہ بھارت کے وزیر اعظم نے اسے تاریخی سنگ میل کہا اور تجارت، سرمایہ کاری، نوجوانوں اور کاروبار کے لیے نئے مواقع کی بات کی۔
تاہم ونسٹن پیٹرز نے معاہدے کی تیزی اور معیار دونوں پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بہتر نتائج کے لیے مزید وقت لیا جانا چاہیے تھا۔ ان کے مطابق یہ نیوزی لینڈ کا پہلا تجارتی معاہدہ ہے جس میں دودھ، پنیر اور مکھن جیسی بنیادی ڈیری مصنوعات شامل نہیں، جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔



