یکم اپریل سے نئے قوانین نافذ، عوام کے لیے اہم تبدیلیاں
یکم اپریل سے نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ملک بھر میں کئی اہم تبدیلیاں نافذ ہونے جا رہی ہیں جو عوام کی روزمرہ زندگی پر اثر انداز ہوں گی۔
سب سے بڑی تبدیلی نئے انکم ٹیکس قانون کی ہے، جو پرانے قانون کی جگہ لے گا اور ٹیکس نظام کو مزید منظم بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
پین کارڈ قواعد میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اب صرف آدھار کافی نہیں ہوگا بلکہ درخواست کے لیے اضافی دستاویزات جیسے ووٹر شناختی کارڈ، پاسپورٹ یا پیدائش کا سرٹیفکیٹ دینا ضروری ہوگا۔
بینکنگ نظام میں بھی سختی کی گئی ہے۔ اگر کسی مالی سال میں ۱۰ لاکھ روپے یا اس سے زائد رقم جمع یا نکالی جائے تو پین کی تفصیلات دینا لازمی ہوگا، جس کا مقصد مالی شفافیت کو بڑھانا ہے۔
ریلوے سے متعلق ٹکٹ منسوخی قوانین بھی بدل گئے ہیں۔ اب سفر سے ۸ گھنٹے کے اندر ٹکٹ منسوخ کرنے پر کوئی رقم واپس نہیں ملے گی، جبکہ پہلے یہ مدت ۴ گھنٹے تھی۔
گھر کرایہ الاؤنس کے معاملے میں بھی بڑی راحت دی گئی ہے۔ اب ۵۰ فیصد ٹیکس چھوٹ والے شہروں کی تعداد بڑھا کر ۸ کر دی گئی ہے، جس میں حیدرآباد سمیت دیگر بڑے شہر شامل ہیں۔
یہ تمام تبدیلیاں عوام کے مالی معاملات، سفر اور روزمرہ اخراجات پر براہ راست اثر ڈالیں گی۔



