نکیتھا گودیشالا قتل کیس مالی لین دین کا شبہ، والد کا بڑا انکشاف
امریکہ میں مبینہ طور پر قتل کی گئی ستائیس سالہ آئی ٹی پروفیشنل نکیتھا گودیشالا کے والد آنند گودیشالا نے انکشاف کیا ہے کہ اس قتل کے پیچھے مالی معاملہ ہو سکتا ہے۔ حیدرآباد میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مرکزی ملزم ارجن شرما ان کی بیٹی سمیت کئی لوگوں سے پیسے ادھار لیا کرتا تھا۔
آنند گودیشالا نے واضح کیا کہ ارجن شرما نکیتھا کا سابق بوائے فرینڈ نہیں بلکہ امریکہ میں اس کا سابق فلیٹ میٹ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ نکیتھا ایک اپارٹمنٹ میں چار دیگر افراد کے ساتھ رہتی تھی اور ارجن سب سے پیسے مانگتا تھا۔ والد کے مطابق، یہی مالی دباؤ اس افسوسناک واقعے کی وجہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے مرکزی حکومت اور تلنگانہ حکومت سے اپیل کی کہ ان کی بیٹی کی لاش کو جلد از جلد حیدرآباد منتقل کرنے میں مدد کی جائے۔ آنند نے بتایا کہ انہوں نے آخری بار نئے سال کی شام نکیتھا سے فون پر بات کی تھی۔ نکیتھا گزشتہ چار برسوں سے امریکہ میں مقیم تھی اور سافٹ ویئر انجینئر کے طور پر کام کر رہی تھی۔
پولیس کے مطابق، نکیتھا دو جنوری کو لاپتہ ہوئی تھی اور بعد ازاں ارجن شرما کے اپارٹمنٹ سے اس کی لاش ملی، جس پر چاقو کے متعدد وار کے نشانات تھے۔ حیران کن طور پر، ارجن نے خود ہی گمشدگی کی رپورٹ درج کرائی تھی لیکن اسی دن بھارت فرار ہو گیا۔
بعد میں انٹرپول کی مدد سے اسے تمل ناڈو سے گرفتار کیا گیا۔ امریکی حکام نے اس پر پہلے اور دوسرے درجے کے قتل کے الزامات عائد کیے ہیں۔ بھارتی سفارت خانہ اس معاملے میں خاندان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور قانونی کارروائی پر نظر رکھے ہوئے ہے۔


