بین الاقوامیعرب دنیا

‘نو کنگز’ احتجاج، ٹرمپ پالیسیوں کے خلاف لاکھوں افراد سڑکوں پر

امریکہ اور یورپ سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا، جسے "نو کنگز تحریک” کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مظاہرین نے خاص طور پر ایران جنگ اور امیگریشن پالیسیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

رپورٹس کے مطابق ملک بھر میں ہزاروں مقامات پر مظاہرے ہوئے، جن میں بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے قصبوں میں بھی بڑی تعداد میں لوگ شریک ہوئے۔ مظاہرین نے جمہوریت کے حق میں نعرے لگائے اور حکومتی اقدامات پر سخت تنقید کی۔

نیویارک، لاس اینجلس، واشنگٹن اور دیگر شہروں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے، جبکہ کچھ مقامات پر مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے کہا کہ شہری آزادیوں، معاشی عدم مساوات اور دیگر مسائل کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

ریاست منی سوٹا اس احتجاج کا اہم مرکز بن گئی جہاں بڑی ریلی منعقد ہوئی۔ مقررین نے کہا کہ یہ تحریک صرف ایک پالیسی کے خلاف نہیں بلکہ جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے ہے۔

اگرچہ زیادہ تر مظاہرے پرامن رہے، تاہم کچھ شہروں میں جھڑپیں بھی ہوئیں اور پولیس نے صورتحال قابو میں رکھنے کے لیے کارروائی کی۔ دوسری جانب حکومتی نمائندوں نے ان مظاہروں کو سیاسی مقاصد سے جوڑتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔

یورپ کے مختلف شہروں میں بھی اسی نوعیت کے مظاہرے دیکھنے میں آئے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ معاملہ عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button