علاقائی خبریںقومی

آپریشن میگابورو سرنڈا میں نکسلائیٹوں کو شدید دھچکا، فیصلہ کن محاصرہ جاری

جھارکھنڈ کے سرنڈا جنگلاتی علاقے میں چلائے گئے آپریشن میگابورو کے تحت سکیورٹی فورسز نے بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ دو روزہ مشترکہ کارروائی میں سترہ سخت گیر ماؤ وادی مارے گئے، جن میں ایک کروڑ روپے کا انعام یافتہ سرکردہ کمانڈر انل بھی شامل ہے۔ اس کارروائی نے ریاست میں سرگرم نکسلائیٹ تنظیم کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

یہ آپریشن مرکزی ریزرو پولیس فورس، جھارکھنڈ جیگوار، کوبرا بٹالین اور ضلعی پولیس کی مشترکہ کوششوں سے انجام دیا گیا۔ کارروائی کی نگرانی اعلیٰ افسران کی جانب سے کی جا رہی ہے، جن کا مقصد مارچ دو ہزار چھبیس تک جھارکھنڈ کو ماؤ وادی تشدد سے پاک کرنا ہے۔

انٹیلیجنس اطلاعات کے مطابق اب تقریباً پینتالیس باقی ماندہ نکسلائیٹس کو مغربی سنگھ بھوم کے چوٹاناگراہ اور کیری بورو تھانہ حدود میں گھیر لیا گیا ہے۔ ان کی قیادت بدنام زمانہ مسیر بیسرا کر رہا ہے، جس پر بھی ایک کروڑ روپے کا انعام ہے۔ اس کے ساتھ دوسرا اہم کمانڈر عاصم منڈل بھی محصور ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گھیرے میں آئے نکسلائیٹس نے اپنے اردگرد بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں، تاہم ان کے پاس ہتھیار اور رسد محدود ہو چکی ہے اور بیرونی سپلائی مکمل طور پر بند ہے۔ اطلاعات یہ بھی ہیں کہ کئی نکسلائیٹس خودسپردگی پر غور کر رہے ہیں، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔

سکیورٹی ایجنسیوں کے مطابق ٹونٹو اور گوئل کیرا علاقے اب نکسلائیٹس سے مکمل طور پر خالی ہو چکے ہیں۔ علاقے میں عارضی سکیورٹی کیمپ قائم کر دیے گئے ہیں، جس سے ماؤ وادیوں کا دائرہ مزید تنگ ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button