غزہ میں ہلاکتیں 70 ہزار سے زائد جنگ بندی کے باوجود حملے جاری
غزہ کی صحت وزارت نے بتایا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے آغاز سے اب تک فلسطینی شہادتوں کی تعداد 70 ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ وزارت کے مطابق یہ تعداد اس وقت مزید بڑھی جب جنگ بندی کے بعد بھی حملے جاری رہے اور تباہ شدہ علاقوں سے مزید لاشیں نکالی گئیں۔
وزارت کا کہنا ہے کہ ہلاکتوں کی تازہ تعداد 70 ہزار 100 ہو چکی ہے، جبکہ نصابہ اسپتال نے تصدیق کی کہ دو فلسطینی بچے جنوبی غزہ میں ڈرون حملے میں شہید ہوئے۔ ان بچوں کی عمر آٹھ اور گیارہ سال تھی اور وہ بنی سہیلہ کے ایک اسکول کے قریب موجود تھے جہاں بے گھر لوگ پناہ لے رہے تھے۔
اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ان افراد کو نشانہ بنایا جو مبینہ طور پر سیکیورٹی حدود میں داخل ہوئے اور "مشکوک سرگرمی” کر رہے تھے، تاہم فوج نے بچوں کا ذکر نہیں کیا۔
وزارت کے مطابق جنگ بندی کے ۱۰ اکتوبر کے بعد بھی 352 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جبکہ فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایک نئے منصوبے کے تحت غزہ کے مستقبل کے لئے بین الاقوامی نگرانی اور عبوری انتظامیہ کے قیام پر بات جاری ہے، جبکہ علاقے میں دو سال سے زیادہ کی جنگ نے تباہی کے بڑے نشانات چھوڑے ہیں۔
جنگ کا آغاز 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے سے ہوا تھا، جس میں 1200 افراد مارے گئے اور 250 یرغمال بنائے گئے تھے۔ کئی یرغمالیوں کی واپسی معاہدوں کے ذریعے ممکن ہوئی، جبکہ کچھ کی لاشیں ابھی تک نہیں مل سکیں۔



