وزیراعظم نے حیدرآباد میں پہلا نجی بھارتی راکٹ وکرَم۔ون منظرِ عام پر لایا
حیدرآباد میں وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز اسکائی روٹ ایروسپیس کے نئے انفینٹی کیمپس کا افتتاح کرتے ہوئے بھارت کے پہلے نجی مدار بردار راکٹ وکرَم۔ون کو باقاعدہ طور پر منظرِ عام پر لایا۔ یہ کامیابی ملک کے نجی خلائی شعبے کے لیے ایک تاریخی سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔
اس جدید ترین کیمپس کا رقبہ دو لاکھ مربع فُٹ پر مشتمل ہے جہاں راکٹ کی ڈیزائننگ، تیاری، انٹیگریشن اور ٹیسٹنگ تک تمام مراحل ایک ہی جگہ انجام دیے جائیں گے۔ یہ مرکز ہر ماہ ایک مدار بردار راکٹ تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وزیراعظم مودی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ بھارتی نوجوانوں کی اختراع، ہمت اور جدّت پسندی ملک کو نئی بلندیوں تک لے جا رہی ہے۔ انہوں نے اسرو کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اس کے باعث بھارت نے عالمی سطح پر اپنی منفرد شناخت قائم کی۔
وکرَم۔ون کیا ہے؟
- یہ راکٹ تقریباً ۳۰۰ کلوگرام وزنی سیٹلائٹس کو کم زمینی مدار میں چھوڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
- اس کا مکمل جسم کاربن فائبر سے تیار کیا گیا ہے، جو اسے ہلکا، مضبوط اور تیز بناتا ہے۔
- یہ بیک وقت متعدد سیٹلائٹس خلا میں پہنچا سکتا ہے — جو بھارت کے لیے پہلا بڑا قدم ہے۔
- کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اسے ۲۴ گھنٹوں میں جوڑ کر کسی بھی مقام سے لانچ کیا جا سکتا ہے۔
وکرَم سیریز کا پس منظر
وکرَم سیریز کا نام ڈاکٹر وکرَم سارا بھائی کے اعزاز میں رکھا گیا ہے، جنہیں بھارتی خلائی پروگرام کا بانی کہا جاتا ہے۔ یہ سیریز عالمی چھوٹے سیٹلائٹس کے اربوں روپے کے بازار کو نشانہ بنا رہی ہے۔
اسکائی روٹ کی بنیاد سابق اسرو سائنس دانوں نے رکھی تھی، اور ۲۰۲۲ میں کمپنی نے وکرَم۔ایس کے ذریعے بھارت کا پہلا نجی سب آربیٹل راکٹ لانچ کیا تھا۔
بھارت کا خلائی مستقبل روشن
حکومت کے ۲۰۲۳ کے بعد کی خلائی اصلاحات نے ملک میں درجنوں اسٹارٹ اپس کو آگے بڑھایا۔ وکرَم۔ون کی کامیابی سے بھارت عالمی سیٹلائٹ لانچ بازار میں ایک اہم کھلاڑی بن کر ابھر رہا ہے۔



