بجٹ اجلاس کا آغاز، صدرِ جمہوریہ کا ترقی یافتہ بھارت پر زور
پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کا آغاز صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کے مشترکہ خطاب سے ہوا، جس میں انہوں نے سماجی انصاف، جامع ترقی اور ترقی یافتہ بھارت کے وژن کو تفصیل سے پیش کیا۔ یہ خطاب اٹھارہویں لوک سبھا کے ساتویں اور راجیہ سبھا کے دو سو سترہویں اجلاس کے باضابطہ افتتاح کی علامت تھا۔
صدرِ جمہوریہ نے گزشتہ سال کو ملک کی تیز رفتار پیش رفت اور ثقافتی ورثے کے فروغ کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے وندے ماترم کی ڈیڑھ سو سالہ تکمیل، گرو تیغ بہادر جی کے ساڑھے تین سو ویں شہیدی دن، برسا منڈا اور سردار ولبھ بھائی پٹیل کی ڈیڑھ سو ویں یومِ پیدائش اور بھارت رتن بھوپن ہزاریکا کی تقریبات کا حوالہ دیا۔ ان مواقع نے قومی یکجہتی کو مضبوط کیا اور نوجوان نسل میں حب الوطنی کا جذبہ پیدا کیا۔
صدر مرمو نے کہا کہ دو ہزار چھبیس ملک کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہوگا، کیونکہ بھارت اکیسویں صدی کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ پچیس برسوں کی کامیابیاں مستقبل کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد ہیں۔ صدر نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے افکار یاد دلاتے ہوئے کہا کہ برابری اور وقار آئین کی اصل روح ہیں اور حکومت حقیقی سماجی انصاف کے حصول کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ دہائی میں پچیس کروڑ افراد غربت سے باہر نکلے ہیں۔
فلاحی اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ سماجی تحفظ کی اسکیمیں اب پچانوے کروڑ شہریوں تک پہنچ چکی ہیں۔ سب کا ساتھ، سب کا وکاس کے اصول کے تحت دلتوں، پسماندہ طبقات اور قبائلی برادریوں کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔ دیہی روزگار کے لیے نئے ترقی یافتہ بھارت—گرام قانون کے تحت دیہات میں ایک سو پچیس دن کے کام کی ضمانت دی جائے گی۔



