بین الاقوامیعرب دنیا

روس۔یوکرین جنگ میں بڑا موڑ پیوٹن نے امریکی امن تجویز کو آغازِ گفتگو قرار دے دیا

روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ امریکہ کی جنگ بندی تجویز مذاکرات کے لیے ایک ابتدائی نکتہ ہوسکتی ہے، مگر ساتھ ہی انہوں نے یوکرینی فوج کو خبردار کیا ہے کہ وہ زیرِ قبضہ علاقوں سے فوری طور پر ہٹ جائے ورنہ روس طاقت کے ذریعے انہیں پیچھے دھکیل دے گا۔

پیوٹن نے کرغستان کے دورے کے اختتام پر کہا کہ ہمیں سنجیدگی سے بیٹھ کر بات کرنی ہوگی، ہر لفظ کی اہمیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجویز کسی حتمی معاہدے کا مسودہ نہیں بلکہ گفتگو کے لیے نکات ہیں۔

روس کے سخت مطالبات

پیوٹن نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ یوکرین کو ڈونیٹسک، لوہانسک، خیرسون اور زاپوریزیا کے مکمل علاقوں سے دستبردار ہونا ہوگا، حتیٰ کہ وہ حصے بھی جن پر روس کا قبضہ نہیں ہے۔
انہوں نے یہ شرط بھی دہرائی کہ یوکرین کو نیٹو میں شمولیت سے روکنا ضروری ہے۔

امریکی اور یورپی سرگرمیاں

امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف آئندہ ہفتے ماسکو جائیں گے جبکہ امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول کے کیف جانے کا امکان ہے۔
یورپی ممالک اس عمل میں زیادہ کردار چاہتے ہیں کیونکہ انہیں خطے کی سلامتی پر روسی دباؤ بڑھتا محسوس ہورہا ہے۔

تجزیہ کاروں کی رائے

ماہرین کے مطابق پیوٹن کا مقصد مغرب کی امداد کم ہونے کا انتظار کرنا ہے۔ یورپ کے حکام کا کہنا ہے کہ روس جنگ بندی سے پہلے مزید علاقے قبضے میں لینا چاہتا ہے۔

میدانی صورتحال

روس کا دعویٰ ہے کہ وہ جنگ میں پیش قدمی کر رہا ہے، مگر آزاد تجزیہ کار کہتے ہیں کہ روس کی رفتار سست ہے اور فوری بڑے کامیابیاں ممکن نہیں۔
دوسری طرف یوکرین پر ڈرون حملے جاری ہیں جبکہ روس میں بھی یوکرینی ڈرون گرانے کے دعوے کیے جارہے ہیں۔

سفارتی کشیدگی میں اضافہ

روس نے پولینڈ کے قونصل خانے کو بند کرنے کا حکم دے دیا ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کی علامت ہے۔

یوکرین کی مالی مشکلات

یوکرین حکومت بدعنوانی اسکینڈلز اور شدید مالی بحران سے دوچار ہے۔ آئی ایم ایف نے 8.1 ارب ڈالر کی منظوری دی ہے، مگر 2026–27 کے لیے یوکرین کی ضرورت 153 ارب ڈالر بتائی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button