ولادیمیر پیوٹن کا آئندہ ہفتے دورۂ بھارت دو طرفہ تعلقات
بھارت کی وزارتِ خارجہ نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن چار اور پانچ دسمبر کو بھارت کا اہم سرکاری دورہ کریں گے۔ یہ دونوں ممالک کے درمیان تیسویں سالانہ سربراہی اجلاس کا حصہ ہوگا۔ وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ وزیراعظم نریندر مودی کی خصوصی دعوت پر ہو رہا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس موقع پر صدر پیوٹن اور وزیراعظم مودی کے درمیان تفصیلی دو طرفہ مذاکرات ہوں گے، جبکہ بھارت کے صدر بھی روسی صدر کے اعزاز میں سرکاری ضیافت کا اہتمام کریں گے۔ وزارتِ خارجہ نے اسے دونوں ملکوں کے درمیان خصوصی اور ترجیحی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کا اہم موقع قرار دیا۔
اس دورے کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ حالیہ مہینوں میں بھارت اور روس کے تعلقات توانائی، دفاع اور تجارت کے میدان میں مزید گہرے ہوئے ہیں۔ بھارت نے واضح کیا ہے کہ اس کی توانائی پالیسی کا تعلق صرف قومی مفاد اور معاشی ضرورت سے ہے۔
صدر پیوٹن کے دورے کے دوران دونوں ممالک دفاعی تعاون، توانائی شراکت، تجارتی توسیع، علاقائی سلامتی، یوکرین صورتحال، مشرقِ وسطیٰ اور بحرالہند و بحرالکاہل سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ دورہ بدلتے عالمی حالات میں بھارت اور روس کے روایتی تعلقات کی مضبوطی کی علامت ہے۔
وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے چند روز قبل ماسکو میں صدر پیوٹن سے ملاقات میں اس سربراہی اجلاس کی تیاریوں سے آگاہ کیا تھا، جبکہ وزیراعظم مودی نے بھی روسی صدر کے نمائندے سے ملاقات میں انہیں گرمجوشی سے خوش آمدید کہنے کی خواہش ظاہر کی۔



