علاقائی خبریںقومی

آلودہ پانی کے معاملے پر راہل گاندھی کا انڈور کے اسمارٹ سٹی ماڈل پر سوالات

مدھیہ پردیش کے شہر انڈور میں آلودہ پانی کے سبب پیش آنے والے المناک واقعے کے بعد کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے حکومت پر سخت سوالات اٹھائے۔ راہل گاندھی نے بھگی رتھ پورہ علاقے کا دورہ کیا جہاں گزشتہ ایک ماہ کے دوران قے اور اسہال کی وبا پھیلی اور مقامی افراد کے مطابق دو درجن کے قریب جانیں ضائع ہوئیں۔

راہل گاندھی نے بمبئی اسپتال جا کر زیرِ علاج مریضوں کی عیادت کی اور متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کر کے تعزیت کی۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ صاف پینے کا پانی فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے، مگر یہاں لوگ آلودہ پانی پینے سے بیمار ہوئے اور جانیں گئیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس شہر کو اسمارٹ سٹی کہا جا رہا ہے وہاں پانی جیسی بنیادی سہولت میسر نہیں۔

راہل گاندھی نے مطالبہ کیا کہ حکومت ذمہ داری قبول کرے اور متاثرین کو مناسب معاوضہ دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ متاثرہ عوام کی آواز بننے آئے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

ادھر ریاستی حکومت نے سیاسی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ نے صورتحال کو سنجیدگی سے لیا ہے اور ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ حکومت کے مطابق اموات کی تعداد کم ہے، تاہم ایک سرکاری میڈیکل رپورٹ میں بعض اموات کا تعلق وبا سے جوڑا گیا ہے۔ انتظامیہ نے متعدد خاندانوں کو معاوضہ بھی ادا کیا ہے۔

یہ واقعہ ریاست کی سیاست میں گرما گرمی کا سبب بن گیا ہے، جبکہ عوام کا مطالبہ ہے کہ صاف پانی کی مستقل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button