پالامورو منصوبوں سے متعلق ایک بار پھر متنازع دعوے
ریاستی سیاست میں ایک بار پھر پالامورو منصوبوں کو لے کر تنازعہ شدت اختیار کر گیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ ریونت ریڈی پر الزام ہے کہ وہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہیں اور زیرِ التوا منصوبوں کی اصل صورتحال چھپا رہے ہیں۔
حال ہی میں مہبوب نگر میں منعقدہ جلسے میں وزیرِ اعلیٰ نے کئی افتتاحات کیے، مگر اپنی دو سالہ کارکردگی پر واضح جواب دینے سے گریز کیا۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جو منصوبے پہلے ہی منظور ہو چکے تھے، انہیں نئے کاموں کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
پالامورو۔رنگاریڈی لفٹ ایریگیشن منصوبہ سابقہ حکومت کے دور میں شروع ہوا، جس کے ذریعے لاکھوں ایکڑ زمین کو آبپاشی سہولت فراہم کی گئی۔ اسی طرح بھیمہ، نیٹم پیڈو، کوئل ساگر اور جورالا جیسے منصوبے بھی پہلے ہی مکمل یا آخری مراحل میں تھے۔ ناقدین کے مطابق موجودہ حکومت نے نہ نئے فنڈز جاری کیے اور نہ ہی زیرِ التوا کاموں کو تیزی دی۔
وزیرِ اعلیٰ کے اس بیان پر بھی اعتراض اٹھایا جا رہا ہے کہ ماضی میں کوئی منصوبہ منظور نہیں ہوا۔ سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ یہ دعویٰ تاریخی ریکارڈ کے خلاف ہے۔ عوامی مفاد کے منصوبوں کو سیاسی بیان بازی کی نذر کرنا افسوسناک ہے۔
اسی طرح پینے کے پانی، انڈر گراؤنڈ ڈرینج، نرسنگ کالج اور تعلیمی اداروں سے متعلق جن کاموں کا اعلان کیا گیا، وہ بھی سابقہ دور کی منظوری کا حصہ تھے۔ موجودہ حکومت پر الزام ہے کہ وہ صرف کریڈٹ لینے کی کوشش کر رہی ہے۔



