بچی آریہا شاہ کے معاملے پر جرمن چانسلر سے بات چیت کی اپیل، جے شنکر
کیرالا سے سی پی آئی (ایم) کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس نے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کو ایک خط لکھ کر زور دیا ہے کہ وہ جرمن چانسلر فریڈرک میرٹس کے آئندہ دورۂ ہند کے دوران بچی آریہا شاہ کے معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھائیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ آریہا شاہ گزشتہ ساڑھے چار برس سے جرمنی میں چائلڈ سروسز کی تحویل میں ہے، حالانکہ والدین کے خلاف تمام فوجداری الزامات ختم ہو چکے ہیں۔
جان برٹاس کے مطابق اب پانچ برس کے قریب عمر رکھنے والی آریہا کے بارے میں متعلقہ جرمن اسپتال نے کسی بھی تشدد کے ثبوت کی واضح طور پر تردید کی ہے، جبکہ عدالت کی جانب سے مقرر ماہرِ نفسیات نے بھی والدین کی تحویل بحال کرنے کی سفارش کی ہے۔ اس کے باوجود جرمن حکام والدین کے حقوق ختم کرنے اور جرمنی میں گود لینے کے عمل پر اصرار کر رہے ہیں۔
خط میں اس امر پر تشویش ظاہر کی گئی کہ بھارتی پاسپورٹ رکھنے والی آریہا کے خاندانی زندگی، ثقافتی شناخت، زبان اور مذہب سے متعلق بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں، جو اقوامِ متحدہ کے بچوں کے حقوق کے کنونشن کے تحت محفوظ ہیں۔ مزید یہ کہ بچی کو بھارت میں اپنے رشتہ داروں سے رابطے اور بھارتی ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت سے محروم رکھا جا رہا ہے۔
جان برٹاس نے بتایا کہ آریہا کی پانچ مرتبہ نگہداشت کی جگہ بدلی جا چکی ہے، جس سے اسے مستحکم جذباتی ماحول نہیں مل سکا۔ موجودہ حالات میں والدین سے دو ماہ میں ایک ملاقات ہی اس کا واحد سہارا ہے، جو والدین کی ویزا پابندیوں کے باعث خطرے میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ۱۲ تا ۱۳ جنوری کو جرمن چانسلر کے پہلے سرکاری دورۂ ہند کے دوران یہ معاملہ اٹھانا بچی کے بہترین مفاد میں ایک اہم سفارتی موقع ہے۔



