سعودی عرب کی یمن کے جنوبی دھڑوں کو مذاکرات کی دعوت
سعودی عرب نے یمن کے جنوبی علاقوں میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، فضائی حملوں اور علیحدگی کی کوششوں کے بعد تمام جنوبی دھڑوں کو ریاض میں مکالمے کے لیے مدعو کیا ہے۔ سعودی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ یمن کے جنوبی مسئلے کا منصفانہ اور پائیدار حل تلاش کرنے کے لیے ایک جامع کانفرنس ناگزیر ہے، جس میں تمام فریقین کو شامل کیا جائے۔
بیان کے مطابق یہ دعوت یمنی حکومت کی درخواست پر دی گئی ہے، تاکہ جاری سیاسی و عسکری بحران کا حل بات چیت کے ذریعے نکالا جا سکے۔ سعودی عرب نے واضح کیا کہ مکالمہ ہی خطے میں استحکام اور امن کی بحالی کا واحد راستہ ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات گزشتہ کئی برسوں سے یمن کے مختلف دھڑوں کی حمایت کرتے آ رہے ہیں۔ یہ دونوں ممالک یمن کی طویل خانہ جنگی میں براہِ راست مداخلت بھی کر چکے ہیں۔ انہی میں سے ایک طاقتور گروہ، جنوبی عبوری کونسل، جو امارات کی حمایت یافتہ ہے، اب جنوبی یمن کی علیحدگی اور نئی ریاست کے قیام کے لیے سرگرم ہے۔
حالیہ ہفتوں میں اس گروہ نے جنوبی علاقوں کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا ہے اور دو سالہ عبوری دور کے بعد ریاست کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ کے روز سعودی قیادت والے اتحاد کے فضائی حملوں میں کم از کم ۲۰ افراد ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں، جس سے حالات مزید کشیدہ ہو گئے۔



