کیرالہ کا نام بدل کر ‘کیرالم’ کرنے کی منظوری، ششی تھرور کا طنزیہ تبصرہ
وزیراعظم کی سربراہی میں منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ریاست کیرالہ کا نام تبدیل کر کے سرکاری طور پر کیرالم رکھنے کی تجویز کو منظوری دے دی گئی ہے۔ اس اہم فیصلے کے بعد اب آئین ہند کی دفعہ تین کے تحت ایک مسودہ قانون تیار کیا جائے گا جسے صدر جمہوریہ کی جانب سے ریاست کی قانون ساز اسمبلی کو رائے کے لیے بھیجا جائے گا۔ اسمبلی کی رائے موصول ہونے کے بعد اس ترمیم کو حتمی منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔
اس سیاسی پیش رفت پر کانگریس کے سینئر رہنما ششی تھرور نے ایک دلچسپ لسانی سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر لکھا کہ نام کی یہ تبدیلی تو خوش آئند ہے، لیکن اب وہاں کے رہنے والوں کے لیے انگریزی میں کون سے الفاظ استعمال کیے جائیں گے؟ انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا کہ مجوزہ نئے القابات سننے میں کسی جراثیم یا کسی نایاب معدنیات کے ناموں کی طرح محسوس ہوتے ہیں۔
واضح رہے کہ کیرالہ کی حکومت نے جون دو ہزار چوبیس میں اپنی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں وفاق سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ریاست کا نام مقامی زبان اور ثقافت کے مطابق تبدیل کیا جائے۔ اس کے علاوہ ششی تھرور نے راشٹرپتی بھون میں سی راجگوپال آچاری کے مجسمے کی تنصیب پر بھی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ان کی اصولی سیاست پر خراج تحسین پیش کیا۔


