سری لنکا میں ہنگامی حالت نافذ طوفان کی تباہی، بھارت کی فوری مدد
سری لنکا کے صدر انؤرا کمارا ڈِسانائیکے نے طاقتور طوفان اور شدید بارشوں سے ہونے والی تباہی کے بعد پورے ملک میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے۔ موسم کی خرابی کے آثار پیر سے ہی ظاہر ہو رہے تھے، تاہم بدھ کو سمندری طوفان کے ٹکرانے کے بعد ریکارڈ بارش اور سیلاب نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا۔
بھارت نے آپریشن ساگر بندھو کے تحت فوری امداد بھیجتے ہوئے دو فوجی طیاروں کے ذریعے ۲۱ ٹن امدادی سامان روانہ کیا، جب کہ ایک دن پہلے ۶ ٹن ضروری سامان بھیجا گیا تھا۔ مزید یہ کہ این ڈی آر ایف کی دو ٹیمیں، جن میں ۸۰ اہلکار شامل ہیں، اور دو چیتک ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ مجموعی طور پر ۲۷ ٹن امدادی سامان پہنچ چکا ہے اور مزید راستے میں ہے۔
بھارتی ہائی کمیشن نے کولمبو ایئرپورٹ پر پھنسے ہوئے بھارتی مسافروں کے لیے ایمرجنسی ہیلپ لائن بھی قائم کر دی ہے اور انہیں کھانا، پانی سمیت ضروری مدد فراہم کی جا رہی ہے۔
افسران کے مطابق ہنگامی حالت سے ریسکیو, ریلیف کارروائیوں, فوج, پولیس، صحت اور انتظامیہ کی تیز تعیناتی میں مدد ملے گی۔
طوفان ڈِٹوا کے باعث اب تک ۱۲۳ اموات کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ ۱۳۰ افراد لاپتہ ہیں۔ خراب موسم کی وجہ سے کئی متاثرہ علاقوں سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہے جس سے اموات کی حقیقی تعداد کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
فوج نے شمال مغربی علاقے سے ۶۸ افراد کو زندہ بچایا جو ۲۹ گھنٹے تک ایک بس کی چھت پر پھنسے رہے تھے۔ کئی اضلاع میں تباہی, سیلاب, بجلی اور رابطے کی بندش نے صورتحال مزید بگاڑ دی ہے۔



