بین الاقوامیعرب دنیا

سڈنی بونڈی بیچ پر دہشت گردانہ حملہ، ہلاکتیں 16 تک جا پہنچیں

سڈنی کے مشہور بونڈی بیچ پر پیش آنے والے خوفناک فائرنگ واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 16 تک پہنچ گئی ہے، جن میں ایک 10 سالہ بچی بھی شامل ہے۔ آسٹریلوی حکام کے مطابق یہ حملہ یہودی مذہبی تقریب کے دوران کیا گیا، جسے حکومت نے یہود مخالف دہشت گردی قرار دیا ہے۔

پولیس نے بتایا کہ حملہ آور باپ اور بیٹا تھے، جو طویل نالی والی بندوقوں سے لیس تھے۔ ایک حملہ آور کو پولیس نے موقع پر ہی گولی مار کر ہلاک کر دیا، جبکہ دوسرا شدید زخمی حالت میں اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔ واقعے میں 42 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب بونڈی بیچ پر ہنوکہ کی تقریب جاری تھی اور سینکڑوں افراد موجود تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق اچانک فائرنگ شروع ہوئی، جس کے بعد ساحل پر افراتفری مچ گئی اور لوگ جان بچانے کے لیے ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے واقعے کو قوم کے دل پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جگہ خوشیوں اور خاندانی اجتماعات کی علامت تھی، مگر اب اس سانحے نے اسے ہمیشہ کے لیے داغدار کر دیا ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ نے عندیہ دیا ہے کہ واقعے کے بعد اسلحہ قوانین مزید سخت کیے جا سکتے ہیں۔

حکام نے بتایا کہ جائے وقوعہ سے دستی ساختہ دھماکہ خیز آلات بھی برآمد ہوئے، جنہیں ناکارہ بنا دیا گیا۔ پولیس نے مکمل تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مزید کسی حملہ آور کی تلاش نہیں کی جا رہی۔

یہ واقعہ آسٹریلیا میں گزشتہ کئی دہائیوں کا سب سے ہولناک فائرنگ سانحہ قرار دیا جا رہا ہے، جس پر دنیا بھر کے رہنماؤں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button