تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

موسی منصوبے پر تفصیلی بحث، اسمبلی میں غیر معمولی صورتحال

تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں موسی ندی کی بحالی اور جی ایچ ایم سی اصلاحات پر شدید ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ بحث کے دوران بھارت راشٹرا سمیتی کے ارکان نے الزام لگایا کہ انہیں جواب دینے کا موقع نہیں دیا گیا، جس کے بعد انہوں نے واک آؤٹ کرتے ہوئے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے پیش کیے گئے تمام بل منظور کر لیے گئے۔

وزیراعلیٰ اے ریونتھ ریڈی نے گنڈی پیٹ سے گوریلی تک پچپن کلو میٹر طویل موسی ریور فرنٹ منصوبے کا خاکہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ گوداوری کا پانی دو برس میں گنڈی پیٹ تک پہنچایا جائے گا اور پہلے مرحلے کی تفصیلات سَنکرانتی تک واضح کی جائیں گی۔ انہوں نے عالمی شہروں کی مثالیں دیتے ہوئے ایک جدید شہری منصوبے کا وعدہ کیا۔

سابق وزیر ہریش راؤ نے منصوبے کے اخراجات، مکانات کی مسماری اور بازآبادکاری پر سوالات اٹھائے اور خبردار کیا کہ غریبوں کے گھروں کو نقصان پہنچا تو احتجاج کیا جائے گا۔
وہیں اکبرالدین اویسی نے تاریخی عمارتوں، ماحولیاتی نظام اور پرندوں کے مسکن کے تحفظ پر زور دیا اور سائنسی مطالعے کا مطالبہ کیا۔

اسمبلی میں جی ایچ ایم سی قانون، بلدیاتی ترامیم اور دیگر اہم قوانین بھی منظور کیے گئے۔ بی جے پی نے جی ایچ ایم سی میں انضمام کی مخالفت کی جبکہ سی پی آئی نے بنیادی سہولتوں پر توجہ دینے کی تنبیہ کی۔

بحث اس وقت تلخ ہو گئی جب بی آر ایس نے اسپیکر پر جانبداری کا الزام لگایا۔ بعد ازاں ارکان اسمبلی نے گن پارک تک مارچ کر کے اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button