ملازمتوں کے نقصان پر اے آئی کمپنیوں پر “پیپل کریڈٹس” ٹیکس کی تجویز
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونتھ ریڈی نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر ایک نئی تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت اے آئی کمپنیوں پر “پیپل کریڈٹس” ٹیکس عائد کیا جا سکتا ہے تاکہ روزگار سے محروم ہونے والے افراد کی مدد کی جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک دو دھاری تلوار ہے، جو ایک طرف ترقی اور پیداوار میں اضافہ لاتی ہے، جبکہ دوسری جانب ملازمتوں میں کمی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے والی کمپنیاں سماجی ذمہ داری بھی نبھائیں۔
وزیر اعلیٰ کے مطابق جس طرح آلودگی پھیلانے والی صنعتوں پر ماحولیاتی قوانین کے تحت جرمانے عائد کیے جاتے ہیں، اسی طرح اے آئی کمپنیوں سے بھی ٹیکس لیا جانا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد کی بحالی ممکن ہو سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکنالوجی ماضی میں بھی کام کی نوعیت کو بدلتی رہی ہے، اور آئندہ بھی مختلف شعبوں جیسے طب، قانون اور میڈیا میں تبدیلیاں آئیں گی، لیکن مکمل طور پر ملازمتوں کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ ابتدائی سطح کی نوکریاں زیادہ متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے لیبر مارکیٹ میں عدم توازن پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تجویز مستقبل میں ٹیکنالوجی اور روزگار کے درمیان توازن قائم کرنے کی اہم کوشش ثابت ہو سکتی ہے۔



