پولاورم توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں تلنگانہ کا مضبوط موقف
تلنگانہ حکومت نے گوداوری دریا کے پانی میں اپنے جائز حق پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے کو مسترد کرتے ہوئے پولاورم منصوبے کی توسیع کے خلاف سپریم کورٹ میں مضبوط دلائل پیش کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔
وزیرِ اعلیٰ ریونتھ ریڈی اور وزیرِ آبپاشی این اُتم کمار ریڈی نے اتوار کے روز ممتاز قانونی ماہرین کے ساتھ تفصیلی مشاورت کی۔ اس آندھرا پردیش کی جانب سے پیش کیے گئے پولاورم۔نلمالا ساگر منصوبے کو روکنے کے لیے حکمتِ عملی طے کی گئی۔
تلنگانہ حکومت نے حال ہی میں سپریم کورٹ میں درخواستِ رِٹ دائر کی ہے، جس پر جلد سماعت متوقع ہے۔ اس درخواست میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ پولاورم منصوبے کو صرف اصل منظور شدہ ڈیزائن کے مطابق ہی نافذ کیا جانا چاہیے اور کسی بھی قسم کی توسیع قانونی طور پر ناقابلِ قبول ہے۔
وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ آبپاشی نے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی سے ملاقات کر کے ہدایت دی کہ ریاست کے مفاد میں مضبوط اور مؤثر دلائل پیش کیے جائیں۔ اسی کے ساتھ آبپاشی محکمہ کے عہدیداروں کو تمام دستاویزات اور شواہد تیار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔
درخواست میں اس بات پر بھی اعتراض کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت نے تلنگانہ کے اعتراضات کو نظرانداز کرتے ہوئے منصوبے کی ابتدائی رپورٹس پر غور کیا۔ حکومت نے مرکزی آبی کمیشن، جل شکتی وزارت اور گوداوری ریور مینجمنٹ بورڈ کو واضح ہدایات دینے کی اپیل کی ہے۔



