ٹرمپ کی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے 48 گھنٹوں کی مہلت
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو 48 گھنٹوں کی مہلت دیتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ یا تو معاہدہ کیا جائے یا آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولا جائے، ورنہ سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ کے مطابق یہ اقدام جاری سفارتی مذاکرات کے دوران کیا گیا ہے، جبکہ اس سے قبل ایران کو 10 دن کی مہلت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں امریکی جنگی طیارے حادثات اور حملوں کا شکار ہوئے۔ ایک طیارے کے عملے کے رکن کو بحفاظت بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ایرانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک امریکی حملہ آور طیارہ کو مار گرایا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتی ہے۔
یہ تنازع اب اپنے چھٹے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے اور اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔ خاص طور پر تیل اور گیس کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے کیونکہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ جنگی صورتحال کے باوجود مذاکرات جاری رہیں گے اور کسی ایک واقعے سے سفارتی عمل متاثر نہیں ہوگا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے خطے کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔



