بین الاقوامیعرب دنیا

غزہ امن منصوبہ ٹرمپ کی مودی کو تاریخی دعوت

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم نریندر مودی کو ایک مجوزہ عالمی ادارے بورڈِ امن میں شمولیت کی باضابطہ دعوت دی ہے، جو غزہ میں استحکام اور جنگ کے بعد تعمیرِ نو کے لیے ایک نئے بین الاقوامی فریم ورک کا مرکزی ستون قرار دیا جا رہا ہے۔

سولہ جنوری کو لکھے گئے خط میں صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو تاریخی اور عظیم کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن قائم کرنا اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے مثال قائم کرنا ہے۔ انہوں نے سات اکتوبر دو ہزار تیئیس سے شروع ہونے والی جنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک سفارتی وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے یاد دلایا کہ انتیس ستمبر دو ہزار پچیس کو انہوں نے غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے بیس نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا، جسے عالمی و علاقائی رہنماؤں کی حمایت حاصل ہوئی اور بعد ازاں اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل نے قرارداد نمبر دو ہزار آٹھ سو تین کے ذریعے اس کی توثیق کی۔

انہوں نے لکھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خوابوں کو حقیقت بنایا جائے اور بورڈِ امن کو اب تک کا سب سے بااثر اور نتیجہ خیز ادارہ قرار دیا۔ اس ادارے کا مقصد نگرانی، وسائل کی فراہمی اور جواب دہی کو یقینی بناتے ہوئے غزہ کو تنازع سے استحکام اور ترقی کی طرف لے جانا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ بورڈ غزہ کو انتہاپسندی سے پاک اور دہشت گردی سے آزاد خطہ بنانے کے ساتھ وسیع پیمانے پر ترقیاتی منصوبوں کی معاونت کرے گا۔ بھارت کو دی گئی دعوت کی تصدیق بھارت میں امریکی سفیر سرجیو گور نے کی۔

یہ اعلان اسرائیل اور حماس جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تناظر میں سامنے آیا ہے، تاہم اسرائیل نے انتظامی کمیٹی کے بعض نکات پر اعتراض کیا ہے۔ اس گروپ میں مارکو روبیو، ٹونی بلیئر، اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر، اجے بنگا سمیت اہم شخصیات شامل ہیں، جبکہ پاکستان، مصر، ترکی، کینیڈا اور اردن کو بھی دعوتیں دی گئی ہیں۔ حتمی فہرست جلد متوقع ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button