نوبیل امن انعام وینزویلا کی اپوزیشن رہنما نے ٹرمپ کو انعام دیا
سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نوبیل امن انعام حاصل کرنے کا خواب ایک غیر معمولی انداز میں پورا ہوا۔ تاہم یہ اعزاز نوبیل کمیٹی کی جانب سے نہیں بلکہ وینزویلا کی اپوزیشن رہنما ماریا کورینا مچادو کی طرف سے پیش کیا گیا۔ وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے دوران مچادو نے اپنا نوبیل امن انعام ٹرمپ کو پیش کیا، جس کی تصدیق انہوں نے ملاقات کے بعد خود کی۔
مچادو کے مطابق، انہوں نے یہ اعزاز وینزویلا کے عوام کی آزادی اور فلاح و بہبود کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کے اعتراف میں دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ وینزویلا کے عوام کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں اور ان کی جدوجہد میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اس موقع پر انہوں نے ایک تاریخی مثال بھی دی اور یاد دلایا کہ امریکی آزادی کی جدوجہد میں کردار ادا کرنے والے مارکوس ڈی لا فایٹ نے سائمن بولیوار کو اعزاز پیش کیا تھا، اور آج اسی روایت کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وینزویلا کے سیاسی حالات میں تبدیلیوں کے دوران ٹرمپ نے پہلے مچادو کی قیادت پر سوالات اٹھائے تھے اور عارضی قیادت کے حوالے سے مختلف موقف اختیار کیا تھا۔ تازہ ملاقات کے بعد بھی اس معاملے پر کئی سوالات برقرار ہیں، جس نے اس واقعے کو مزید توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔



