کاراکاس پر فضائی حملے، ٹرمپ کا دعویٰ مادورو اور اہلیہ گرفتار
وینزویلا کے دارالحکومت کاراکاس میں شدید فضائی حملوں کے بعد امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سیلیا فلورس کو امریکی فورسز نے حراست میں لے کر امریکہ منتقل کر دیا ہے۔ ان واقعات نے پورے ملک کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق کاراکاس پر ہونے والے وسیع پیمانے کے حملوں کے دوران یہ کارروائی انجام دی گئی، جس کے بعد مادورو اور ان کی اہلیہ کو ملک سے باہر منتقل کیا گیا۔ دونوں پر امریکہ میں منشیات دہشت گردی، کوکین اسمگلنگ اور اسلحہ جرائم کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان پر باقاعدہ مقدمات چلائے جائیں گے۔
ادھر وینزویلا کے وزیر دفاع نے حملوں کے فوراً بعد ملک بھر میں فوجی دستوں کی تعیناتی کا اعلان کیا اور عوام سے اتحاد اور مزاحمت کی اپیل کی۔ انہوں نے امریکی اقدام کو وینزویلا کے خلاف بدترین جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ تمام مسلح افواج حرکت میں آ چکی ہیں۔
دارالحکومت کے مختلف علاقوں میں کم از کم سات دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ نچلی پرواز کرنے والے طیارے بھی دیکھے گئے۔ کئی علاقوں میں بجلی معطل ہو گئی اور عمارتوں سے دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ عوام خوف کے باعث سڑکوں پر نکل آئے۔
وینزویلا کی حکومت نے امریکہ پر شہری اور فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا الزام لگاتے ہوئے اسے سامراجی حملہ قرار دیا اور حامیوں کو احتجاج کے لیے متحرک ہونے کی اپیل کی۔ صدر مادورو کی جانب سے قومی دفاعی منصوبے نافذ کرنے اور ہنگامی حالت کے نفاذ کا اعلان بھی کیا گیا، جس سے فوج کو اضافی اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔



