بین الاقوامیعرب دنیا

نیا عالمی نظام ٹرمپ کے بیانات سے عالمی اتحاد میں ہلچل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور اقدامات نے عالمی سیاست میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ عالمی اقتصادی فورم میں خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے مختلف ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کی دھمکیاں دیں اور بعض فیصلوں کو ذاتی ناراضی سے جوڑا، جس پر عالمی رہنماؤں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق صدر ٹرمپ نے سوئٹزرلینڈ پر ٹیرف لگانے کی بات کی، تاہم بعد میں اسے کم کر دیا۔ اسی طرح کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی کے سخت مؤقف پر ناراض ہو کر انہیں ایک اہم عالمی فورم کی دعوت سے محروم کر دیا گیا۔ مبصرین کے مطابق یہ طرزِ عمل دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم عالمی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن رہا ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ پرانا عالمی نظام غیر مؤثر اور عوامی ضروریات سے دور تھا، اس لیے وہ ایک نیا طریقہ کار متعارف کرا رہے ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ نیا انداز عدم استحکام اور غیر متوقع فیصلوں پر مبنی ہو سکتا ہے، جس میں ذاتی پسند و ناپسند کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

ادھر کئی ممالک کے رہنما اس صورتحال پر جوابی حکمتِ عملی تیار کر رہے ہیں۔ کینیڈا، برطانیہ اور یورپی ممالک نے اجتماعی تعاون اور قواعد پر مبنی نظام کی حمایت پر زور دیا ہے۔ برطانوی وزیرِاعظم نے نیٹو کے کردار پر شکوک کو توہین آمیز قرار دیا، جبکہ ڈنمارک نے بھی امریکی بیانات پر ناراضی ظاہر کی۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کے باعث کئی ممالک نئے اتحاد کی تلاش میں ہیں، جس سے عالمی طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button