ڈاووس میں بورڈ آف پیس کی تقریب، ٹرمپ کے حامیوں کی محدود شرکت
ڈاووس میں منعقد ہونے والی بورڈ آف پیس کی دستخطی تقریب اس وقت توجہ کا مرکز بنی جب سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر عالمی منظرنامے پر نمودار ہوئے، مگر اس بار شرکاء کی تعداد اور فضا خاصی مختلف نظر آئی۔ اس تقریب میں شرکت کے لیے دعوت ناموں کی فہرست طویل تھی، مگر اس سے بھی زیادہ نمایاں وہ عذر اور بہانے تھے جن کے ذریعے کئی عالمی رہنماؤں نے شرکت سے گریز کیا۔
تقریب میں چند ایسے رہنما موجود تھے جنہیں عالمی سیاست میں سخت گیر یا طاقت پر یقین رکھنے والے کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ان میں کچھ لاطینی امریکی اور یورپی ممالک کے نمائندے شامل تھے، جبکہ یورپ کے بڑے رہنما تقریباً غیر حاضر رہے۔ تالیاں کمزور تھیں اور ماحول سنجیدہ دکھائی دیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی دن ہے اور دنیا کے طاقتور لوگ اس کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی کوششوں سے کئی تنازعات کے خاتمے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ ان کے مطابق، مختلف خطوں کے درمیان امن کے قیام میں یہ بورڈ اہم کردار ادا کرے گا۔
تاہم، پردے کے پیچھے کئی ممالک نے اس بورڈ پر تحفظات کا اظہار کیا۔ خاص طور پر کچھ یورپی ممالک نے اس میں شامل ہونے سے گریز کرتے ہوئے آئینی مجبوریوں اور پارلیمانی منظوری کا حوالہ دیا۔ بعض حلقوں میں خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ فورم متنازع شخصیات کا اجتماع بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ اس بورڈ پر تنقید ہو رہی ہے، لیکن یہ ادارہ عالمی امن کے لیے کام کرے گا اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ہم آہنگی رکھے گا۔ آخر میں تقریب کو کامیاب قرار دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ جلد ہی اس بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوگا، جس میں مزید ممالک کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔



