بین الاقوامیعرب دنیا

ٹرمپ کی ایران کو امریکی مطالبات نہ ماننے پر بڑے حملوں کی دھمکی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکی مطالبات پر عمل نہ کیا تو اس کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی حملے کیے جا سکتے ہیں۔

ایک حالیہ انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مقررہ وقت تک پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں ایران کے بجلی گھر، پل اور اہم تنصیبات تباہ کر دی جائیں گی۔ ان کے مطابق یہ کارروائی انتہائی وسیع اور فیصلہ کن ہو سکتی ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب آبنائے ہرمز کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی سطح پر تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمجھا جاتا ہے، جہاں کسی بھی رکاوٹ کے عالمی معیشت پر فوری اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے ایک جانب سخت مؤقف اختیار کیا ہے تو دوسری جانب انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے تعاون نہ کیا تو امریکہ فوجی سطح پر مزید شدت اختیار کرنے کے لیے تیار ہے۔

اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں اور یہ صورتحال ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان پہلے ہی جوہری پروگرام، علاقائی اثر و رسوخ اور سمندری سلامتی جیسے معاملات پر اختلافات موجود ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں دباؤ اور مذاکرات دونوں ساتھ ساتھ چل رہے ہیں، جس سے صورتحال نہایت حساس ہو گئی ہے۔ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button