نیپال میں نوجوانوں کی کامیابی، بنگلہ دیش میں تحریک کیوں ناکام
ایشیا میں حالیہ برسوں کے دوران نوجوانوں کی احتجاجی تحریکیں سامنے آئیں، لیکن نیپال وہ واحد ملک بن کر ابھرا جہاں نوجوان قیادت نے نہ صرف حکومت کو چیلنج کیا بلکہ انتخابی کامیابی بھی حاصل کی۔
نیپال میں حالیہ انتخابات میں نوجوانوں کی جماعت نے بڑی کامیابی حاصل کی اور بڑی تعداد میں نوجوان ارکان پارلیمان منتخب ہوئے۔ اس کے برعکس بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی تحریک اگرچہ حکومت کے خاتمے میں کامیاب رہی، لیکن وہ سیاسی طاقت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
ماہرین کے مطابق نیپال کی کامیابی کی بڑی وجہ عوام کے مسائل سے جڑنا اور مسلسل احتساب اور انصاف کا مطالبہ کرنا تھا۔ نوجوانوں نے اپنی آواز کو صرف احتجاج تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے ایک مضبوط سیاسی تحریک میں تبدیل کیا۔
نیپال میں عوام پہلے ہی بدعنوانی اور سیاسی عدم استحکام سے تنگ آ چکے تھے، جہاں کئی سالوں میں بار بار حکومتیں بدلتی رہیں۔ اس صورتحال نے نئی اور نوجوان قیادت کے لیے راستہ ہموار کیا۔
دوسری جانب بنگلہ دیش میں نوجوانوں کی تحریک کے پاس نہ تو مضبوط سیاسی تنظیم تھی اور نہ ہی وسائل، جس کے باعث وہ انتخابات میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف احتجاج کافی نہیں بلکہ کامیابی کے لیے ایک مضبوط جماعتی ڈھانچہ بھی ضروری ہوتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مثال ظاہر کرتی ہے کہ نوجوانوں کی کامیابی صرف جذباتی تحریک سے نہیں بلکہ منصوبہ بندی، تنظیم اور عوامی حمایت سے ممکن ہوتی ہے۔



