تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

اُپل فلائی اوور میں مسلسل تاخیر، عوام کی مشکلات میں اضافہ

حیدرآباد کے مصروف اُپل چوراہے پر ٹریفک تو آگے بڑھ رہی ہے، مگر اُپل–نراپلی فلائی اوور کی تعمیر اب بھی سست روی کا شکار ہے۔ سات سال سے زیرِ تعمیر یہ فلائی اوور قومی شاہراہ 163 پر ٹریفک کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے شروع کیا گیا تھا، جہاں وارنگل، یادادری بھونگیری اور مشرقی حیدرآباد کا ٹریفک آپس میں ملتا ہے۔

مکمل ہونے پر 6.2 کلومیٹر طویل یہ چھ لین کا فلائی اوور ریاست کا دوسرا سب سے لمبا فلائی اوور ہوگا، جبکہ پہلا مقام پی وی این آر ایکسپریس وے کے پاس ہے۔

اہم رکاوٹیں
فلائی اوور کی تعمیر میں مالی مسائل، زمین کے حصول اور انتظامی رکاوٹوں کے باعث شدید تاخیر ہوئی۔ منصوبے کا ڈیزائن بھی 2025 میں تبدیل کیا گیا، کیونکہ میٹرو کے نیلے لائن ویائیڈکٹ کے لیے موجودہ آر سی سی ستون ناکافی تھے۔

رواں سال وزیر سڑک و عمارات کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے اعلان کیا کہ فلائی اوور دسہرہ 2026 تک مکمل کر دیا جائے گا اور پرانے کنٹریکٹر کو ہٹا کر نیا کنٹریکٹر مقرر کیا گیا ہے۔ تاہم تعمیر کا کام صرف دو ماہ پہلے دوبارہ شروع ہوا ہے۔

عوام کی مشکلات بڑھ گئیں
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ سڑک کی حالت خراب ہونے سے گاڑیوں کے ٹائر پنکچر، دھول، بندش اور حادثات معمول بن چکے ہیں۔
پیرازادِگوڈا کے رہائشی روی نے کہا:
حکومت اس سڑک کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی، برسوں سے یہی حالت ہے۔

ایک منی ٹرک ڈرائیور نے بتایا کہ دھول اور ہیوی گاڑیوں کی وجہ سے کئی بار گاڑیاں خراب ہو جاتی ہیں۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ صبح کے اوقات میں دھول برداشت سے باہر ہو جاتی ہے۔

آٹھواں سال شروع ہونے کے باوجود عوام کو یقین نہیں کہ فلائی اوور جلد مکمل ہو گا۔ فی الحال، یہ فلائی اوور شہر کی تاخیر زدہ ترقی کی علامت بن چکا ہے اور روزانہ ہزاروں مسافروں کے لیے مصیبت کا سبب ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button