امریکہ میں شہریت قانون پر تنازع، بھارتی خاندانوں میں تشویش
امریکہ میں شہریت سے متعلق ایک اہم مقدمہ نے وہاں مقیم بھارتی پیشہ ور افراد، خاص طور پر ایچ ون بی ویزا ہولڈرز اور ان کے خاندانوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
امریکی حکومت نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ عارضی ویزا پر آنے والے افراد کے بچوں کو خودکار طور پر شہریت نہیں ملنی چاہیے۔ حکام کے مطابق شہریت کے لیے ملک کے ساتھ مکمل وفاداری ضروری ہے، صرف امریکہ میں پیدائش کافی نہیں۔
یہ مؤقف ہزاروں بھارتی خاندانوں کو متاثر کر سکتا ہے، کیونکہ بڑی تعداد میں بھارتی شہری امریکہ میں طویل عرصے سے ملازمت اور رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں اور ان کے بچے وہیں پیدا ہوتے ہیں۔
عدالت میں اس بات پر بھی سوال اٹھایا گیا کہ اگر قانون تبدیل ہوا تو بچوں کی شہریت کا تعین کیسے کیا جائے گا اور کیا ہر کیس میں والدین کی حیثیت جانچنا ضروری ہوگا۔
ماہرین قانون نے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدام پرانی قانونی روایت کو ختم کر سکتا ہے، جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والا ہر بچہ شہری سمجھا جاتا ہے۔ اس اصول کی بنیاد ایک تاریخی فیصلے پر ہے جس نے واضح کیا تھا کہ پیدائش کی بنیاد پر شہریت ایک بنیادی حق ہے۔
اگر قانون میں تبدیلی آتی ہے تو اس کے اثرات بچوں کی تعلیم، ملازمت اور سرکاری سہولیات پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔



